میرا دل بھی چمکا دے چمکے جیسے چاند
تیری محفل میں میرے مولیٰ، میں بھی آؤں کبھی
تیرے در کی خاک سے، پھر میں بھی نہاؤں کبھی
دامنِ رحمت پھیلا دے، تاکہ میں بھی آ سکوں
اپنی رحمت سے مجھے بھی، تُو نوازنے لگ جا
میرا دل بھی چمکا دے چمکے جیسے چاند
ہر طرف اندھیرا ہے، روشنی نہیں ملتی
تیرے بغیر میرے مولیٰ، زندگی نہیں ملتی
نورِ مصطفٰی سے میرے دل کو منور کر دے
رحمتوں کی برسات میں، مجھ کو بھی ڈبو دے